

اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ، سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے،اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ، سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے، اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ، سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے، اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ، سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے، اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ، سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے..
Sep
1
Aug
29
Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start blogging!

